آزادی صحافت اور صحافیوں پر جرائم کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پی آر اے پاکستان کا پیغام

PRA-PR-65
Dated: 02-11-2024

پریس ریلیز

2نومبر آزادی صحافت اور صحافیوں پر جرائم کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پی آر اے پاکستان کا پیغام

صحافیوں کے خلاف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی دھمکیوں ،تشدد ،بےروزگار اور قتل جیسی حرکات پر اظہار تشویش۔

پی آر اے پاکستان کا مشکل کی ہر گھڑی میں صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم

اسلام آباد( 02 نومبر 2024) صحافیوں پر جرائم کے خلاف عالمی دن 1993 سے منایا جا رہا ہے لیکن پاکستانی صحافیوں کا گلہ دبانے کے لئے آزادی اظہار رائے پر کئی طریقوں سے قدغنیں آج بھی لگائی جا رہی ہیں ۔پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر عثمان خان، سیکرٹری نوید اکبر اور دیگر عہدیداروں نے صحافیوں کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مختلف عناصر کی جانب سے آزادی صحافت اور صحافیوں کے لئے بہت واویلا کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ۔پاکستان میں قلم اور مائیک تھامنے والے آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جبر،دھونس،دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرتے ہوئے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

صحافی جو ہر طبقے کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہے، معاشرے کی آنکھ اور کان سمجھا جاتا ہے، انتہائی کٹھن اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے،صحافی آج بھی تشدد برداشت کرتا، دشمنیاں مول لیتا ہے۔ مگر صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث اکثر مجرم قانون کے کٹہرے میں نہیں لائے جاتے۔اور اب صحافی کو دباو میں لانے اور زبان بندی کے لئے ریاستی، حکومتی اور انفرادی سطح پر میڈیا ہاوسز میں بلیک میلنگ،ذاتی پسند و ناپسند کہ بنیاد پر نوکریوں سے فراغت اور معاشی قتل جیسے دھمکیوں اور بھونڈے اقدامات بھی تشویش کا باعث ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ہرسال یہ دن منانے کا مقصد عوام کو سچائی بتانے کی پاداش میں قتل ہونے یا تکلیفیں سہنے والے صحافیوں کو یاد کرنا ہے۔کہنے کو تو پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود صحافیوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار تشویش ناک حد تک زیادہ ہیں۔ پاکستان آج بھی ان ممالک میں شامل ہے جو صحافیوں کے لیے خطرناک گردانے جاتے ہیں، پاکستان میں سال 2000 سے لے کر 2022 تک 150صحافیوں کو قتل کیا گیا، جبکہ صرف دو ملزمان کو سزائیں مل سکیں۔

صحافیوں کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں کی رپورٹ کے مطابق 2024 کو پاکستان میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے مہلک ترین سال قرار دیا ہے، اس سال 6 صحافیوں کو قتل کیا گیا اور 11 پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے باوجود حکومتیں ان قوانین کو پوری طرح نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اور صحافی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ نومبر 2023 سے اگست 2024 کے دوران صحافیوں کے خلاف 57 واقعات ریکارڈ کیے گئے، ان میں سے سب سے زیادہ 21 واقعات سندھ میں، 13 پنجاب، 12 اسلام آباد، 7 خیبر پختونخوا اور 2 واقعات بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔ پی آر اے پاکستان ان تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتی ہے جو حقیقی معنوں میں صحافت کرتے ہوئے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کی پاداش میں طاقتور طبقات کے دباؤ اور ریاستی جبر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں اور اس کا خمیازہ بھی بھگتے ہیں ایسے نڈر بیباک صحافیوں کو پارلیمانی صحافتی تنظیم پی آر اے پاکستان سلام پیش کرتی ہے ۔اور یقین دلاتی ہے کہ ہر مشکل کی گھڑی میں ہم صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

جاری کردہ:
جاوید حسین، سیکرٹری اطلاعات پی آر اے پاکستان۔

Skip to content