PRA-PR-84
Dated: 29-01-2025
صدر مملکت کی جانب سے وعدہ خلافی کرنے کی توقع نہیں تھی، پی آر اے
جے یو آئی کے سینٹر کامران مرتضی کی جانب سے صدر مملکت کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں پیکا ایکٹ پر دستخط نہ کرنے کی یقین دھانی سے آگاہ کیا۔
سینٹر کامران مرتضی نے بتایا کہ میری موجودگی میں مولانا فضل الرحمن کی صدر مملکت سے گفتگو ہوئی۔
اسلام آباد(29جنوری 2025) پی آر اے پاکستان نے پیکا ایکٹ کی منظوری دینے پر ایوان صدر کے کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمیں صدر مملکت کی جانب سے وعدہ خلافی کرنے کی توقع نہیں تھی ، پی آر اے نے پیپلز پارٹی کے پارلیمان و کمیٹیوں میں کردار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے ، پی آر اے پاکستان کا ورچوئل ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر مملکت کی جانب سے یقین دھانی کے باوجود پیکا بل پر دستخط کیے جانے کے اقدام کو نامناسب قرار دیا ، اجلاس کو بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمن سے پی آر اے وفد کی ملاقات کے بعد جے یو آئی کے سینٹر کامران مرتضی کی جانب سے صدر مملکت کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں پیکا ایکٹ پر دستخط نہ کرنے کی یقین دھانی سے آگاہ کیا گیا اور سینٹر کامران مرتضی نے بتایا کہ میری موجودگی میں مولانا فضل الرحمن کی صدر مملکت سے گفتگو ہوئی تھی۔ پی آر اے پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ ایوان صدر نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا جس سے صحافتی برادری میں بے چینی و اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے ، جے یو آئی کے سینئر راہنماء سینٹر کامران مرتضی کی جانب سے آڈیو پیغام بھجوایا گیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ مولانا کا صدر مملکت سے رابطہ ہوا ہے جس میں انہوں نے کچھ دن تاخیر کی یقین دھانی کرائی ہے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی مشاورت کرائی جائیگی انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے پی آر اے کی مطالبے پر یہ کام کردیا ہے ۔پی آر اے وفاقی حکومت پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ پیکا قانون میں متنازعہ شقوں پر تحفظات دور نہ ہونے تک اپنی جدوجہد رکھی جائیگی۔
جاری کردہ: جاوید حسین سیکرٹری اطلاعات پی آر اے پاکستان۔
