مذمتی بیان

PRA-PR-09
Dated: 19-01-2026

مذمتی بیان

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے عامل صحافیوں کو ہراساں کرنے اور مختلف خبروں کی کوریج پر نوٹس بھجوانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے نزدیک یہ اقدام آئینِ پاکستان میں دی گئی آزادیٔ اظہار رائے اور آزادیٔ صحافت پر براہِ راست قدغن کے مترادف ہے۔

حال ہی میں سینئر صحافی شہزاد پراچہ، نادر بلوچ سمیت متعدد صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے تحت کی گئی خبروں اور تجزیوں پر نوٹس جاری کیے گئے، جو کہ آزاد صحافت کو دبانے اور عامل صحافیوں پر دباؤ بڑھانے کا ایک منظم حربہ محسوس ہوتا ہے۔ صحافیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی پر خوف و ہراس میں مبتلا کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان ایم بی سومرو نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کو نوٹسز کے ذریعے دبانے کی روش آزادیٔ صحافت کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عامل صحافی عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کا آئینی فریضہ انجام دیتے ہیں، اور انہیں ہراساں کرنا دراصل عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہے۔

سیکرٹری پی آر اے نوید اکبر نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا یہ طرزِ عمل تشویشناک ہے، صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی پر نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو بھجوائے گئے تمام غیر ضروری نوٹس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور ادارے آزادیٔ صحافت کا احترام یقینی بنائیں۔

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان متاثرہ صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اگر اس قسم کے اقدامات کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ایسوسی ایشن ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز بلند کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

جاری کردہ:
جاوید حسین سیکرٹری اطلاعات، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان.

Skip to content