پی آر اے پاکستان کا آج قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا فیصلہ

ہنگامی واک آؤٹ نوٹس

پی آر اے پاکستان کا آج قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا فیصلہ

ڈیئر ممبران پی آر اے پاکستان اس وقت زرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے عامل صحافیوں پر کڑا وقت ہے، ادارے جبری برطرفیاں کررہے ہیں، ھمارے کئی ممبران کو ڈان ٹی وی، نیوز وی ون، جی ٹی وی، نکتہ سمیت مختلف اداروں سے بلاجواز برطرف کیا گیا ہے یا استعفی پر مجبور کیا گیا ہے، یہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں، اس کے ساتھ ساتھ نیشنل پریس کلب پر پولیس گردی کے معاملہ پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی جس میں صدر اور سیکرٹری پی آر اے بھی شامل تھے کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بہت دن گزرجانے کے باوجود حکومتی رویہ سرد ہے، اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پی آر اے پاکستان کی منتخب باڈی نے آج قومی اسمبلی اھلاس سے واک آؤٹ کا فیصلہ کیا ہے، سب ساتھیوں کا تعاون اور حاضری درکار ہے
جاری کردہ
نوید اکبر
سیکرٹری پی آر اے

پریس ریلیز

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ۔

حکومتی رویے، جبری برطرفیوں اور نیشنل پریس کلب پر پولیس گردی کے خلاف احتجاج۔

اسلام آباد، 5 نومبر 2025:
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان (PRA) نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ڈان ٹی وی، نیوز ون، جی ٹی وی اور Nukta پاکستان سمیت متعدد اداروں میں صحافیوں کی جبری برطرفیوں اور نیشنل پریس کلب پر پولیس گردی کے واقعات کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس پریس گیلری سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، سابق وفاقی وزیر و رکن قومی اسمبلی سید امین الحق، پی آئی او مبشر حسن سمیت حکومتی وفد نے پریس گیلری میں پی آر اے قیادت سے ملاقات کی۔

پی آر اے پاکستان کے صدر ایم بی سومرو اور سیکرٹری نوید اکبر نے وفد کو میڈیا اداروں میں صحافیوں کی برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور حکومتی عدم دلچسپی سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت جبری برطرفیوں کا سلسلہ روکے، میڈیا مالکان کو دی جانے والی ادائیگیوں کا فائدہ کارکن صحافیوں تک پہنچایا جائے، اور نیشنل پریس کلب پر پولیس گردی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پی آر اے پاکستان نے حکومتی وفد پر واضح کیا کہ اگر صورتحال ایسی رہی اور ان مسائل پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو دونوں ایوانوں کا مسلسل بائیکاٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پی آر اے سے مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے پی بی اے اور اے پی این ایس کے ساتھ ملاقات میں جبری برطرفیوں اور ادائیگیوں کے مسائل اٹھائے جائیں گے۔ وزیر اطلاعات نے یقین دہانی کرائی کہ Nukta پلیٹ فارم سے برطرف صحافیوں کو 48 گھنٹوں میں بحال کیا جائے گا جبکہ نیشنل پریس کلب پر حملے کی رپورٹ وزارت داخلہ سے حاصل کر کے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سید امین الحق نے بھی پی آر اے سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

جاری کردہ:
جاوید حسین، سیکرٹری اطلاعات، پی آر اے پاکستان۔

Skip to content